شہرِ عثمان آباد
عثمان آباد ایک چھوٹا اور خاموش سا شہر ہے، چھوٹی چھوٹی پہاڑیوں سے گھرا ہوا ہے، اس شہر میں پہنچنے ہی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے زندگی کے سارے ہنگامے ختم ہوگئے ہیں، اب آگے صرف خاموشی ہی خاموشی ہے، سکون ہی سکون ہے، نہ شور و شرابہ اور نہ شور و غل، نہ اور شہروں سی چمک دمک اور نہ ہنگامہ آرائی ۔
اس شہر کی تاریخ رامائن کے دور کی ہے، کہا جاتا ہے کہ رام نے اپنی جلا وطنی کے کچھ سال اس علاقہ میں بھی گزارے ہیں، تاریخی شواہد کے مطابق اس ضلع پر موریوں، شواہانوں، راشٹر کوتوں اور یادوں کی بھی حکومت رہی ہے، ابتدا میں یہ علاقہ ہندو چلوکیوں اور دیوگیری یادوں کی ریر نگیں تھا لیکن بعد کو یہ بہمنی اور بیجاپور ریاستوں کا حصہ بن گیا ۔
جائے وقوع :
شہر عثمان آباد شولاپور سے ٦٥ کیلو میٹر کے فاصلے پر جنوبی مغرب میں واقع ہے، اس کے شمال میں شہر بیڑ، مشرق میں لاتور، شمالی مغرب میں احمد نگر اور جنوب میں ریاست کرناٹک کے اضلاع بیدر اور گلبرگہ اس ملحق ہیں ۔
یہ شہر بالا گھاٹ کی پہاڑی پر سطح سمندر سے ٦٥٣ میٹر کی بلندی پر واقع ہے، سینا، مانجرا اور تیرنا دریا کے کچھ حصے شہر سے ہو کر گزرتے ہیں ۔
وجہ تسمیہ :
شہر عثمان آباد کا نام حیدر آباد کے اخیر حکمران ساتویں نظام میر عثمان علی خان کے نام سے موسوم ہے، یہ علاقہ ١٩٤٨ تک ریاست حیدر آباد کا حصہ رہا پھر ١٧/ ستمبر ١٩٤٨ کو پولس ایکشن کے ذریعہ نظامی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا ۔
آب و ہوا : یہاں کی آب و ہوا عام طور پر خشک رہتی ہے، بارش کا موسم وسط جون سے شروع ہوتا ہے اور ستمبر کے اخیر تک رہتا ہے، اکتوبر سے نومبر تک آب و ہوا نمی دار رہتی ہے، موسم سرما نومبر کے وسط سے جنوری تک رہتا ہے، فروری سے مارچ تک آب و ہوا خشک ہوتی ہے اور اپریل سے جون تک موسم گرما ہوتا ہے، گرمیوں کے دنوں میں اس شہر کا درجہ حرارت مراٹھواڑہ کے دوسرے اضلاع کے مقابلے کم ہوتا ہے ۔
آبادی اور تحصیل :
شہر عثمان آباد کے آٹھ تحصیل ہیں :
١)عثمان آباد ٢) بھوم ٣)کلم ٤) لوہارا ٥)عمرگہ ٦)پرنڈہ ٧)تلجاپور ٨)واشی ۔
عثمان آباد کی مجموعی آبادی ٢٠١١ء کی مردم شماری کے مطابق ١٠.٦٦.٣١١(ایک کروڑ چھیاسٹھ ہزار تین سو گیارہ) افراد پر مشتمل ہے، جن میں ٪٨٥.٤٥ آبادی مراٹھی بولنے والوں کی، ٪٥.٨٩ ہندی بولنے والوں کی، ٪٤.٢٥ اردو بولنے والوں کی اور ٪٢.٠٤ لمباڑی بولنے والوں کی ہے ۔
تاریخی مقامات :
اس شہر کی تاریخی مقامات میں سب سے زیادہ نمایاں حضرت خواجہ شمس الدین غازی رحمۃاللہ کی درگاہ ہے جو مدرسہ دارالعلوم فلاح دارین سے قریب جنوبی سمت پر ہے۔
نلدرک کا قلعہ :
گڑھ :
تلجا بھوانی مندر :
تحصیل تلجاپور میں (جو کہ شہر عثمان آباد سے ٢٢ کیلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے) تلجا بھوانی نامی ایک تاریخی مندر ہے اور اسی نام سے یہ گاؤں بھی موسوم ہے، یہ مندر ٥١ طاقت پیٹھوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، مراٹھا بادشاہت کا بانی شیواجی مہاراج کا اس سے خصوصی لگاؤ تھا، یہ مندر تاریخی ہونے کے ساتھ ساتھ فرسودہ اور من گھڑت افسانوں کے سبب ہندوؤں کے یہاں بڑا تقدیس و تعظیم کا حامل ہے ۔
جامع مسجد کاٹی : تلجاپور کے کاٹی گاؤں میں ٥٠٠ سال پرانی دو مسجدیں ہیں ۔
مدارس :
١) دار العلوم فلاح دارین:
٢) احیاء العلوم :
٣) کاشف العلوم سانجہ :
سقوط حیدرآباد :
نوٹ : اضافہ جاری ہے
