﷽
🖊️ ………. ڈاکٹر عبد الحمید اطہر ندوی
ہمارے اسکول کے بچے آج بہت خوش تھے، حالاں کہ تھکن سے چور تھے، لیکن سب کے چہرے کھلے ہوئے تھے، کیوں کہ ہم بچے بچوں کے سب سے محبوب مشغلے ‘‘ٹور’’ پر نکلے ہوئے تھے، اور آج پہلا دن گھوم گھام کے اپنی قیام گاہ پہنچے تھے ۔۔۔۔
قیام گاہ یعنی اپنا گھر نہیں ۔۔۔۔۔ بلکہ ایک خوبصورت سے ریسورٹ میں جنگل کے بیچوں بیچ تھے، ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں نے ہمارا مزا دوبالا کردیا تھا اور تھوڑی سی ٹھنڈک نے گھر کے اے سی کا لطف دینا شروع کردیا تھا ۔۔۔۔۔۔
ہمارے ساتھی پانچ چھ پانچ چھ دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مست تھے، پورے دن کے حسین مناظر کا تذکرہ چل رہا تھا، ہنسی مذاق کی باتیں ہورہی تھیں، کبھی کبھی قہقہقوں کا شور بھی سنائی دے رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اکثر ساتھی جمائی لینے لگے اور پورے دن کی تھکاوٹ نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ سب بستروں میں دبکنے لگے اور چند ساتھیوں کی تو خراٹوں کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔۔۔
میں بھی اپنے دوستوں کے ساتھ سونے کی تیاری میں لگ گیا اور بستر پھیلا کر لیٹنے لگا، لیکن یہ کیا؟!
میرے سب سے محبوب ہنس مکھ، سب کو اپنی میٹھی میٹھی باتوں سے لبھانے والے، دوستوں کے چہروں پر مسکراہٹیں بکھیرنے والے اورسب کے دلوں سے قریب دوست ارسلان خاموش بیٹھے اپنی سوچ کے سمندر میں غوطے لگارہے ہیں ۔۔۔۔ میں اپنے دوست کو پہلی مرتبہ اتنا سنجیدہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ابھی تھوڑی دیر پہلے ارسلان کی باتوں سے دن بھر کی تھکاوٹ کو بھول کر سب ہنس رہے تھے اور قہقہے لگا رہے تھے ۔۔۔
میں نے ارسلان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ میری طرف متوجہ ہوا، پھر میں نے سوال کیا:
‘‘ارسلان! تم کس سوچ میں گم ہو؟!!’’۔
ارسلان نے مجھے آنکھیں پھاڑ کر دیکھا اور افسوس کرتے ہوئے کہا:
‘‘ارمان! ہمارے ان دوستوں کو دیکھو، کس طرح سوئے ہوئے ہیں، انھیں اپنی صحت کا خیال نہیں ہے!!!’’۔
میری سمجھ میں کچھ نہیں آیا، میں نے کہا:
‘‘ارسلان! سبھی پُرسکون نظر آرہے ہیں، صبح چست اور چاق وچوبند ہوکر اٹھیں گے’’۔
ارسلان نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا اور سمجھانے کے انداز میں کہا:
‘‘ارمان! انسان کو طبی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، ورنہ آہستہ آہستہ اس کی طبیعت بگڑنے لگتی ہے اور وہ بیماریوں کا مجموعہ بن جاتا ہے ۔۔۔۔۔ سونے کا بھی ایک فطری طریقہ ہے، اگر اس کے مطابق انسان سوتا ہے تو اس کی صحت درست رہتی ہے، ورنہ بہت سی بیماریوں کا شکار ہوجاتا ہے، جو مستقبل میں انسان کے لیے جان لیوا بھی ہوسکتی ہیں ۔۔۔۔۔۔’’۔
میں نے ارمان کی بات کاٹتے ہوئے کہا:
‘‘اچھا!!! یہ بات تو مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہورہی ہے، میں تو صرف اتنا سمجھ رہا تھا کہ انسان کو دن میں آٹھ گھنٹے سونا چاہیے ۔۔۔۔۔۔۔’’۔
ارسلان نے میرا ہاتھ سہلاتے ہوئے کہا:
‘‘انسان کو کس پہلو سونا چاہیے اور کس پہلو سونے سے بچنا چاہیے؟؟ اس بارے میں جاننا ضروری ہے، ہم یہیں اپنے ساتھیوں پر نظر کریں تو معلوم ہوگا کہ کوئی پیٹ کے بل سو رہا ہے تو کوئی پیٹھ کے بل، کوئی بائیں پہلو تو کوئی دائیں پہلو۔۔۔۔ ماہر ڈاکٹروں نے چاروں طریقوں پر سالہا سال تک تحقیق کی ہے اور ان کے فائدہ مند اور نقصان دہ باتوں کو واضح کرکے بتایا ہے ۔۔۔۔۔۔ مثال کے طور پر:
جو لوگ پیٹ کے بل سوتے ہیں انھیں سانس میں تنگی کی شکایت ہونے لگتی ہے، کیوں کہ پوری پیٹھ اور ریڑھ کی ہڈی کا بوجھ پھیپھڑوں پر پڑتا ہے۔
اس لیے اس طرح سونا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔
جو لوگ پیٹھ کے بل سوتے ہیں وہ اپنے منھ سے سانس لیتے ہیں، جب انسان منھ سے سانس لینے لگتا ہے تو دوسروں کے مقابلے میں زکام کا زیادہ شکار ہوجاتا ہے اور اس کے مسوڑے سوکھنے لگتے ہیں اور پیچھے کی طرف چلے جاتے ہیں، اور یہ اس زمانے کی سب سے عام بیماری ہے ۔۔۔۔ ارمان! دیکھو! محمود کے خراٹے سب کو پریشان کررہے ہیں۔۔۔۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ وہ پیٹھ کے بل سوتا ہے ۔۔۔۔۔ ایسے لوگوں کے خراٹے نکلتے ہیں ۔۔۔۔۔
اس لیے پیٹھ کے بل سونا صحت کے لیے اچھا نہیں ہے۔
بائیں پہلو سونا بھی انسانی طبیعت کے لیے نقصان دہ ہے۔۔۔۔۔۔۔
کیوں کہ عام حالات میں کھانا ہضم ہونے کے لیے دو سے چار گھنٹے لگتے ہیں، لیکن بائیں پہلو سونے کی صورت میں کھانے کو ہضم ہونے کے لیے پانچ سے آٹھ گھنٹے لگتے ہیں، کیوں کہ دایاں پھیپھڑا جو بڑا رہتا ہے دل اور جگر پر بوجھ بناتا ہے، اور جگر سب سے بڑا عضو ہے؛ اس لیے لٹکا ہوا بے چین رہتا ہے جب کہ اس کو نیچے کی طرف رہنا چاہیے تاکہ پرسکون رہے۔۔۔۔
اور جو لوگ دائیں پہلو سوتے ہیں وہ طبعی اور فطری انداز میں سوتے ہیں، کیوں کہ بایاں پھیپھڑا چھوٹا اور ہلکا رہتا ہے، اور جگر جو جسم کا سب سے بڑا عضو ہے؛ زمین کی سمت جسم میں پرسکون رہتا ہے، اور اس انداز میں سونے سے کھانا ہضم بھی جلدی ہوتا ہے ۔۔۔۔
اس لیے سونے کا یہ طریقہ انسانی جسم کے لیے سب سے زیادہ مناسب اور سب سے زیادہ فائدہ مند ہے ۔۔۔۔ ہمیں اسی پہلو سونے کی کوشش کرنی چاہیے ۔۔۔۔
میں ارسلان کی ان طبی معلومات پر حیران ہوگیا ۔۔۔۔ میں تو سمجھ رہا تھا کہ ارسلان کو صرف ہنسی مذاق کرنا اور دوسروں کو خوش کرنے کا فن آتا ہے ۔۔۔ اتنی سنجیدہ باتیں میں پہلی مرتبہ اس کی زبانی سن رہا تھا ۔۔۔۔ میں نے ارسلان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا:
‘‘واہ بھائی واہ !!! آج تو ہم آپ کو مان گئے ۔۔۔۔۔’’۔
ارسلان نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا:
‘‘ارمان! کیا تم مسجدوں میں سنائے جانے والی حدیثوں کو نہیں سنتے ہو؟؟’’۔
میں نے ارسلان کو گھورتے ہوئے کہا:
‘‘کیوں؟؟! میں تو تمہارے ساتھ ہی مسجد میں نماز پڑھتا ہوں اور کتاب سن کر نکلتا ہوں؟؟!!’’۔
‘‘ارمان! غصہ کیوں ہورہے ہو؟ یہ بات نہیں ہے، بلکہ ابھی گذشتہ ہفتے امام مسجد نے ایک حدیث پڑھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
‘‘جب تم اپنے بستر پر جاؤ تو نماز کے لیے وضو کرنے کی طرح وضو کرو، پھر اپنے دائیں پہلو لیٹ جاؤ’’۔
میں نے اچھل کر کہا جیسے چھوٹے بچے کو اپنی بھولی ہوئی کوئی بات یاد آئی ہو:
‘‘ہاں، ہاں، اب یاد آیا، امام صاحب نے یہ بھی بتایا تھا کہ ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کی عادت اسی طرح سونے کی تھی، آپ دائیں پہلو سوتے اور اپنا ہاتھ گال کے نیچے رکھتے اور سونے کی دعائیں پڑھتے ۔۔۔۔’’۔
ارسلان نے معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہا:
‘‘ارمان! اسلام کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اسلام کا ہر حکم انسانی فطرت کے مطابق ہے، یہ تحقیقات تو ہمارے سامنے آج آئی ہیں، لیکن ہمارے پیارے محبوب نبی ﷺ نے یہ طریقہ ہم کو آج سے چودہ صدیاں پہلے بتائی ہے ۔۔۔۔ ہمیں سونے کا یہ انداز نبی کی سنت سمجھ کر کرنا چاہیے ۔۔۔۔ اور جو فائدے حاصل ہوں گے وہ ہوں گے ہی، اس کے ساتھ ہماری پوری رات عبادت میں شمار ہوگی۔۔۔’’۔
میں نے تعجب سے ارسلان کی طرف دیکھا اور کہا:
‘‘نیند اور ثواب بھی؟!!’’۔
ارسلان نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہا:
‘‘ہے نا تعجب کی بات؟! لیکن ایک مسلمان اپنا ہر لمحہ عبادت میں بدل سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔’’۔
میں نے خوشی میں اپنا ہاتھ ارسلان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا:
‘‘صرف تھوڑا وقت نکال کر اللہ کے رسول ﷺ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق لیٹیں گے تو مزے کی نیند بھی اور اللہ کی طرف سے بھر پور ثواب بھی ۔۔۔۔۔۔ تھوڑا سا وقت عبادت اور گھنٹوں عبادت کا ثواب ۔۔۔۔۔۔’’۔
ارسلان نے میرے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا:
‘‘بالکل! ۔۔۔۔۔۔’’۔
اتنا عظیم فائدہ سن کر میرا دل چاہ رہا تھا کہ جھوم جھوم جاؤں ۔۔۔۔ ایک ایک کے پاس جاکر اس کے بارے میں بتاؤں ۔۔۔۔ لیکن سب ساتھی تھکے ماندے سوئے تھے ۔۔۔۔۔ میں نے ہر طرف نگاہ دوڑا کر ارسلان سے کہا:
‘‘ارسلان! اب تو میں اسی انداز میں سونے کی پابندی کروں گا جس طرح ہمارے نبی ﷺ سویا کرتے تھے اور جس طرح سونے کے لیے ہمارے پیارے نبی ﷺ نے ہم کو بتایا ہے اور سوتے وقت کی دعاؤں کا بھی اہتمام کروں گا ۔۔۔۔۔۔۔’’۔
ارسلان نے خوش ہوتے ہوئے کہا:
‘‘انشاء اللہ ۔۔۔۔ اللہ تعالی ہم کو اس کی توفیق عطا فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔’’۔
پھر چند لمحات میں نیند نے مجھے اپنی آغوش میں لے لیا ۔۔۔۔۔ صبح ہی آنکھ کھلی ۔۔۔۔۔۔ جب آنکھ کھلی تو میری خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔ ایسی خوشی مجھے نیند سے بیدار ہونے کے بعد کبھی بھی محسوس نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ اللہ تعالی کی طرف سے جو مجھے گھنٹوں عبادت کا مفت میں ثواب ملنے والا تھا۔
